Ad Code

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

chara sazon ki chara sazi sy jhon elia urdu hindi poetry

 


چارہ سازوں کی چارہ سازی سے 

درد بد نام نہیں ہوگا

ہاں دوا دو مگر یہ بتلا دوں

مجھے آرام تو نہیں ہوگا

اب تو جس دور بھی گزر جائیں

کوئی اسرار زندگی سے نہیں

اسی کے غم میں کیا سبھی کو معاف

کوئی شکوہ بھی اب کسی سے نہیں

تم جب آؤ گی کھویا ہوا پاؤ گی مجھے

میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ نہیں

میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں

میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر

ان میں اک رمز ھے جس رمز کا مارا ہوا ذہن

مرشد ہے عشرت انجام نہیں پا سکتا

زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا

سر ہی او پھوڑیے ندامت میں

نیند آنے لگی ہے فرقت میں

وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں

اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں

میرے کمرے کا بیاں کے یہاں

خون تھوکا گیا ہے شرارت میں

روح نے عشق کا فریب دیا

جسم کو جسم کی عداوت میں

اب فقط عادتوں کی ورزش ہے

روح شامل نہیں شکایت میں

یہ کچھ آسان تو نہیں ہے

کہ ہم روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں

اور وہ جو تعمیر ہونے والی تھی

لگ گئی آگ اسی عمارت کو

زندگی کس طرح بسر ہوگی

دل نہیں لگ رہا محبت میں

جون ایلیا

Post a Comment

0 Comments