چارہ سازوں کی چارہ سازی سے
درد بد نام نہیں ہوگا
ہاں دوا دو مگر یہ بتلا دوں
مجھے آرام تو نہیں ہوگا
اب تو جس دور بھی گزر جائیں
کوئی اسرار زندگی سے نہیں
اسی کے غم میں کیا سبھی کو معاف
کوئی شکوہ بھی اب کسی سے نہیں
تم جب آؤ گی کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ھے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مرشد ہے عشرت انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
سر ہی او پھوڑیے ندامت میں
نیند آنے لگی ہے فرقت میں
وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں
اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں
میرے کمرے کا بیاں کے یہاں
خون تھوکا گیا ہے شرارت میں
روح نے عشق کا فریب دیا
جسم کو جسم کی عداوت میں
اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں
یہ کچھ آسان تو نہیں ہے
کہ ہم روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں
اور وہ جو تعمیر ہونے والی تھی
لگ گئی آگ اسی عمارت کو
زندگی کس طرح بسر ہوگی
دل نہیں لگ رہا محبت میں
جون ایلیا
0 Comments