Ad Code

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

سکول ہوم ورک نہ کرنے پر 9 سال کے طالب پر بہیمانہ تشدد

                                              سکول ہوم ورک نہ کرنے پر 9 سال کے طالب پر بہیمانہ تشدد                                                                                                                                            

یہ واقعہ تھانہ شاہدرہ میں پیش آیا 24/21 مقدمہ درج ہوتا ہے جس میں ایک بچے پر اسکول کا ہوم ورک نہ کرنے پر بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے اور اس کی ماں تھانے میں جا کے یہ رپورٹ درج کرواتی ہے جب بچے سے پوچھا گیا کہ اصل واقعہ کیا ہے تو بچے نے بتایا کہ وہ سکول جاتا ہے اور اس کی پرنسپل اس سے پوچھتی ہے کہ تم نے ہوم ورک کیا ہے یا نہیں تو میں ان کو کہتا ہوں کہ مجھے بوک سے زیادہ اچھا یاد ہوتا ہے بنسبت نوٹس کے تو اس لیے میں نے بک سے یاد کیا ہے تو اس بات پر پرنسپل کو غصہ آجاتا ہے اور وہ مجھے مارنا شروع کر دیتی ہیں اس کے بعد جب وہ مجھے مار رہی ہوتی ہیں تو میں ایسے ہی اپنا ہاتھ منہ پر لاتا ہوں خود کو بچانے کے لئے  تو میری پرنسپل کو اور غصہ آجاتا ہے اور وہ مجھے بہت زیادہ مارتی ہیں اور اس کے بعد وہ مجھے اسکول کے ہیڈ کے پاس لے جاتی ہیں اور وہاں جاکر وہ اسکول کے ہیڈ کو میرے خلاف بہت زیادہ غلط بیانی کرتی ہیں جس کے بعد اسکول کا ہیڈ مجھ سےکچھ پوچھے بغیر مجھے گالیاں دینا شروع کر دیتا ہے اور مارنا شروع کر دیتا ہے وہ مجھے بہت بہت زیادہ مارتا ہے اور اس کے بعد مجھے کہتا ہے یہاں سے دفع ہو جاؤ اب نظر مت آنا تم یہاں پر اس کے بعد وہ بولتا ہے میں اس کو ایسے نہیں جانے دوں گا میں اس کوسوجا کر ہی بھیجوں گااور مجھے کہتے ہیں کہ جاؤ تم اپنا بیگ لو اور اسکول سے نکل جاؤ تو میں اپنا بیگ لیتا ہوں تو پھر مجھے گھسیٹ کر اسکول کے بیسمنٹ میں لے جاتے ہیں اور وہاں پر تین افراد ایک سکول میں لڑکا جو کام کرتا ہے اور ایک جوکینٹین والا ہوتا ہےاور سکول ہیڈ یہ تینوں مجھے بہت مارتے ہیں اور اس کے بعد میں گھر آتا ہوں اور اپنی ماں کو بتاتا ہوں ہو تو میری ماما یہ سب دیکھ کر بہت زیادہ خوفزدہ اور پریشان ہو جاتی ہیں جب بچے کی والدہ سے بات کی گئی تو بچے کی والدہ نے بتایا کہ سکول سے ان کو اس دن پہلے کال آئی تھی کہ آپ کے بیٹے نے ہوم ورک نہیں کیا اور بہت برے طریقے سے ان سے بات کی گئی اور آدھے گھنٹے کے بعد دوبارہ فون آتا ہے کہ آپ کے بیٹے کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اس کو یہاں سے آ کر لے جائیں بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ میں اپنے شوہر کو فون کرتی ہوں کہ آپ بچے کو جاکے سکول سے لے آئیں تو میرے شوہر کہتے ہیں کہ میں بیس منٹ تک جاتا ہوں مگر شوہر کے جانے سے پہلے ہی میرا بیٹا واپس گھر آ جاتا ہے اور میرا بیٹا کہتا ہے مجھے صیحی سےنظر نہیں آرہا اور بچے کی آنکھیں سوجی ہوئی ہوتی اور اس کے سر سے کانچ کے ٹکڑے نکل رہے ہوتے ہیں اور خون نکل رہا ہوتا ہے اور بچے کا منہ گردن بہت زیادہ سوجھی ہوئی ہوتی ہے اور بچے کا بی پی انتہا سے زیادہ لو ہوتا ہے بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ میں خود ایک پڑھی لکھی خاتون ہوں اور میں ایک ڈاکٹر ہوں ہو میرے بیٹے پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں اپنے بیٹے کا علاج کس طرح کرو عورت کا مزید کہنا تھا کہ اگر میرے بیٹے نے کچھ کیا تھا تو سکول کے پرنسپل مجھے فون کرکے بلواتیں یا مجھے بتا تیں کہ اصل بات کیا ہے یا اصل ماجرا کیا ہے کہ کیا ہوا ہے اس قدر اور بنا کسی بات کے اس کیوں میرے بیٹے پر تشدد کیا اور بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ اسکول پرنسپل کی طرف سے اور جن لوگوں نے اس کے بیٹے کو مارا اس کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں یہ مقدمہ درج ہو چکا ہے اور پولیس اس پر کارروائی کر رہی ہے۔

               9-year-old student brutally beaten for not doing school homework


 The incident took place at Shahdara police station. A case is registered 24/21 in which a child is brutally tortured for not doing school homework and his mother goes to the police station and lodges a report when the child is asked:  What is the real incident? The child says he goes to school and his principal asks him if he has done his homework. I tell him that I remember better than the book.  So I remember from the book that the principal gets angry and starts hitting me. Then when she is hitting me, I put my hand over my mouth to save myself.  So my principal gets more angry and she beats me a lot and then she takes me to the head of the school and there she misrepresents the head of the school very much against me after which the school  Head starts abusing me without asking me anything and starts hitting me. He hits me very hard and then tells me to get out of here. Don't look at me now.  Then he says I will not let him go like this, I will just send him away and tell me to go and take your bag and get out of the school then I will take my bag then drag me to the basement of the school  They take me and there are three people in a school boy who works and there is a jockey canteen and the school head these three beat me a lot and after that I come home and tell my mother if my mama is all this  They are very frightened and upset when they see the child's mother. The child's mother said that she had received a call from the school the day before that your son had not done his homework and in a very bad way  Talked to and after half an hour the call comes again that your son is very ill. Get him out of here. The baby's mother says I call my husband to take the baby.  Bring it from school, my husband says I go for twenty minutes but before my husband leaves my son comes back home and my son says I can't see properly and the children  The child's eyes are swollen and there are pieces of glass coming out of his head and blood is coming out and the baby's mouth and neck are very swollen and the baby's BP is too high, says the baby's mother.  I am an educated woman myself and I am a doctor. My son was tortured so much that I did not understand how to treat my son. The woman further said that if my son did something  Then the principal of the school would call me or tell me what is the real thing or what is the real story, what happened so much and without any reason why he tortured my son and the mother of the child said that the school  The case has been registered and the police are taking action against the principal and those who killed his son.

Post a Comment

0 Comments